EN हिंदी
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے | شیح شیری
gar KHamushi se faeda iKHfa-e-haal hai

غزل

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

مرزا غالب

;

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
دل فرد جمع و خرچ زباں ہائے لال ہے

کس پردہ میں ہے آئنہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے

ہے ہے خدا نخواستہ وہ اور دشمنی
اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے

مشکیں لباس کعبہ علی کے قدم سے جان
ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرق انفعال ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
دل وقف درد کر کہ فقیروں کا مال ہے