EN हिंदी
غم سے کہاں اے عشق مفر ہے | شیح شیری
gham se kahan ai ishq mafar hai

غزل

غم سے کہاں اے عشق مفر ہے

شکیل بدایونی

;

غم سے کہاں اے عشق مفر ہے
رات کٹی تو صبح کا ڈر ہے

ترک وفا کو مدت گزری
آج بھی لیکن دل پہ اثر ہے

آئنے میں جو دیکھ رہے ہیں
یہ بھی ہمارا حسن نظر ہے

غم کو خوشی کی صورت بخشی
اس کا بھی سہرا آپ کے سر ہے

لاکھ ہیں ان کے جلوے جلوے
میری نظر پھر میری نظر ہے

تم ہی سمجھ لو تم ہو مسیحا
میں کیا جانوں درد کدھر ہے

پھر بھی شکیلؔ اس دور میں پیارے
صاحب فن ہے اہل ہنر ہے