EN हिंदी
غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا | شیح شیری
gham ne bandha hai mere ji pe khala hae khala

غزل

غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا

سراج اورنگ آبادی

;

غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا
پھر نئے سر سیتی آئی ہے بلا ہائے بلا

اے گل گلشن جاں کر مجھے یک بار نہال
خار حسرت کا کلیجے میں سلا ہائے سلا

دیکھ سکتا نہیں میں گل کوں ہر یک خار کے ساتھ
اپنے ہمراہ رقیبوں کوں نہ لا ہائے نہ لا

ذبح کرنے میں مرے رحم نہ لایا اس نے
بلکہ اتنا بھی کہا نیں کہ گلا ہائے گلا

جس نے کھایا ہے تیرے ابروئے خوں ریز کا زخم
مرغ بسمل سا لہو بیچ رلا ہائے رلا

جان جاناں کوں مرے پاس شتابی لاؤ
نیں تو یک پل میں مرا جان چلا ہائے چلا

بے طرح اب تو برہ آگ دہکتی ہے سراجؔ
دل مرا کیوں نہ پکارے کہ جلا ہائے جلا