غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
چشمۂ خورشید شبنم ہووے گا
یاد لاوے گا کبھی تو مجھ کوں یار
شمع بن پروانہ پر کم ہووے گا
عاشق و معشوق میں ثالث ہے عشق
صلح کا پیغام باہم ہووے گا
کفر و ایماں دو ندی ہیں عشق کیں
آخرش دونو کا سنگم ہووے گا
سرو قد کے بن عبث ہے سیر باغ
بار غم سیں سرو بھی خم ہووے گا
گر کرے احوال شبنم پر نظر
رتبۂ خورشید کیا کم ہووے گا
کعبۂ کوئے صنم میں اے سراجؔ
اشک میرا آب زمزم ہووے گا
غزل
غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
سراج اورنگ آبادی

