EN हिंदी
غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا | شیح شیری
gham ki jab sozish sin mahram howega

غزل

غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا

سراج اورنگ آبادی

;

غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
چشمۂ خورشید شبنم ہووے گا

یاد لاوے گا کبھی تو مجھ کوں یار
شمع بن پروانہ پر کم ہووے گا

عاشق و معشوق میں ثالث ہے عشق
صلح کا پیغام باہم ہووے گا

کفر و ایماں دو ندی ہیں عشق کیں
آخرش دونو کا سنگم ہووے گا

سرو قد کے بن عبث ہے سیر باغ
بار غم سیں سرو بھی خم ہووے گا

گر کرے احوال شبنم پر نظر
رتبۂ خورشید کیا کم ہووے گا

کعبۂ کوئے صنم میں اے سراجؔ
اشک میرا آب زمزم ہووے گا