EN हिंदी
غم کے بے نور مزاروں کا گلا گھونٹ آیا | شیح شیری
gham ke be-nur mazaron ka gala ghonT aaya

غزل

غم کے بے نور مزاروں کا گلا گھونٹ آیا

نتن نایاب

;

غم کے بے نور مزاروں کا گلا گھونٹ آیا
سارے بے مہر سہاروں کا گلا گھونٹ آیا

قریۂ ہجر کے اک گھر کا وہ ویران آنگن
وصل کے شوخ نظاروں کا گلا گھونٹ آیا

راہ کے سنگ کو سولی پہ چڑھایا پہلے
اور پھر پاؤں کے خاروں کا گلا گھونٹ آیا

روز سورج کہ طرف سے یہ سوال آتا ہے
کیا میں ان چند ستاروں کا گلا گھونٹ آیا

ظلمت شب میں وہ بستی کے نشینوں کا جنون
شہر کی سارے مناروں کا گلا گھونٹ آیا

ہائے اک پھول مسلنے کو یہ کانٹوں کا ہجوم
جا کے گلشن میں بہاروں کا گلا گھونٹ آیا

دار پر خار پہ لٹکا کے سلگتے پھندے
قطرۂ آب شراروں کا گلا گھونٹ آیا

آج پھر ضبط‌ رگ جان سے نکل کر نایابؔ
درد کے جلتے دیاروں کا گلا گھونٹ آیا