غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا
اک آگ لے کے اشکوں کی صورت نکل گیا
خوش فہمیوں کو سوچ کے میں بھی مچل گیا
جیسے کھلونا دیکھ کے بچہ بہل گیا
کل تک تو کھیلتا تھا وہ شعلوں سے آگ سے
نا جانے آج کیسے وہ پانی سے جل گیا
جھلسے بدن کو دیکھ کے کترا رہا ہے وہ
جس کے میں گھر کی آگ بجھانے میں جل گیا
بارش ہوئی غموں کی تو آنکھوں کی سیپ میں
آنسو کا قطرہ پلکوں سے گرتے سنبھل گیا
ویسے سبھی تو زیست سے دامن بچا لیے
وہ کون ہے جو موت سے بچ کر نکل گیا
تقدیر سو نہ جائے کہیں جاگیے ذرا
دیکھو ترقیوں کا بھی سورج نکل گیا
گر ہو سکے تو آپ بھی بدلو میاں نثارؔ
کہنا پڑے نہ یہ کہ زمانہ بدل گیا

غزل
غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا
احمد نثار