EN हिंदी
غم ہے بے ماجرا کئی دن سے | شیح شیری
gham hai be-majra kai din se

غزل

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے

جون ایلیا

;

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

بے شمیم و ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہ صبا کئی دن سے

دل محلے کی اس گلی میں بھلا
کیوں نہیں گل مچا کئی دن سے

وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مل سکا کئی دن سے

اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بے واسطہ کئی دن سے