EN हिंदी
غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں | شیح شیری
ghair ke KHat mein mujhe un ke payam aate hain

غزل

غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں

محمد دین تاثیر

;

غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں
کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں

عافیت کوش مسافر جنہیں منزل سمجھیں
عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں

اب مرے عشق پہ تہمت ہے ہوس کاری کی
مسکراتے ہوئے اب وہ لب بام آتے ہیں

اب نئے رنگ کے صیاد ہیں اس گلشن میں
صید کے ساتھ جو بڑھ کے تہ بام آتے ہیں

داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

جن کو خلوت میں بھی تاثیرؔ نہ دیکھا تھا کبھی
محفل غیر میں اب وہ سر عام آتے ہیں