فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے
فکر دنیا بھی غم یار ہوئی جاتی ہے
کتنا نازک ہے خدا رکھے محبت کا مزاج
اب تسلی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے
جب سے چھینی ہے تری یاد نے نیند آنکھوں کی
دل کی جو حس ہے وہ بیدار ہوئی جاتی ہے
آہ پابندیٔ آداب محبت توبہ
ٹھنڈی ہر سانس گناہگار ہوئی جاتی ہے
چھو لیا عرش کو منصور کی انگڑائی نے
صاف گوئی رسن و دار ہوئی جاتی ہے
ہر تجلی ہے ترے سامنے شرمندہ سی
چاندنی سایۂ دیوار ہوئی جاتی ہے
شکریہ شوخیٔ حسن پس پردہ کا سراجؔ
آنکھ بے دیکھے گناہگار ہوئی جاتی ہے
غزل
فطرت عشق گنہ گار ہوئی جاتی ہے
سراج لکھنوی