فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا
حشر لگ یہ مظلمہ صیاد پر باقی رہا
کھول کر زلفوں کوں آیا سرو قد جب باغ میں
نقش حیرت طرۂ شمشاد پر باقی رہا
جل گیا پروانہ پن مجھ سا سمندر خو نہیں
یہ سخن شاگرد کا استاد پر باقی رہا
عاشقی میں کب روا ہے اس طرح کی ظالمی
خون شیریں گردن فرہاد پر باقی رہا
رہ گئے ذوق تبسم میں تغافل کے شہید
بسملوں کا خوں بہا جلاد پر باقی رہا
الفت لیلیٰ نے مجنوں کا مٹایا سب نشاں
نام اس کا صفحۂ ایجاد پر باقی رہا
کھول چشم لطف دے جاگیر مقصود سراجؔ
شمع رو پروانہ دل صیاد پر باقی رہا
غزل
فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا
سراج اورنگ آبادی

