فریب راہ محبت کا آسرا بھی نہیں
میں جا رہا ہوں مگر کوئی راستا بھی نہیں
ہر ایک کہتا ہے راہ وفا ہے نا ہموار
مگر خلوص سے اک آدمی چلا بھی نہیں
کسی کے ایک اشارے پہ دو جہاں رقصاں
مرے لیے مری زنجیر کی صدا بھی نہیں
عجیب طرفگیٔ شوق ہے کہ سوئے عدم
گئی ہے خلق مگر کوئی نقش پا بھی نہیں
یہ ٹھیک ہے کہ وفا سے نہیں لگاؤ اسے
مگر ستم تو یہی ہے کہ بے وفا بھی نہیں
کوئی مقام ہو اک آسرا تو ہوتا ہے
وہ یوں بدل گئے جیسے مرا خدا بھی نہیں
غزل
فریب راہ محبت کا آسرا بھی نہیں
وحید الحسن ہاشمی