EN हिंदी
احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیں | شیح شیری
ehtiram-e-lab-o-ruKHsar tak aa pahunche hain

غزل

احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیں

قتیل شفائی

;

احترام لب و رخسار تک آ پہنچے ہیں
بوالہوس بھی مرے معیار تک آ پہنچے ہیں

جو حقائق تھے وہ اشکوں سے ہم آغوش ہوئے
جو فسانے تھے وہ سرکار تک آ پہنچے ہیں

کیا وہ نظروں کو جھروکے میں معلق کر دیں
جو ترے سایۂ دیوار تک آ پہنچے ہیں

اپنی تقدیر کو روتے رہیں ساحل والے
جن کو آنا تھا وہ منجدھار تک آ پہنچے ہیں

اب تو کھل جائے گا شاید تری الفت کا بھرم
اہل دل جرأت اظہار تک آ پہنچے ہیں

ایک تم ہو کہ خدا بن کے چھپے بیٹھے ہو
ایک ہم ہیں کہ لب دار تک آ پہنچے ہیں