EN हिंदी
احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا | شیح شیری
ehsan tera dil mera kya yaad karega

غزل

احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا

شیخ ظہور الدین حاتم

;

احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا
جو خاک کو اس کی نہ تو برباد کرے گا

نے حسرت گل گشت نہ پرواز کی طاقت
صدقے میں ترے کیا مجھے آزاد کرے گا

موجود ہوں حاضر ہوں میں راضی ہوں میں خوش ہوں
سر پر مرے جو کچھ کہ وہ جلاد کرے گا

جز غم کے نہ حاصل ہوا صحبت میں کسو کی
اس دل کو الٰہی کوئی بھی شاد کرے گا

سودا نہ گیا اس کا طبیبوں کی دوا سے
تو آ کے علاج اب کوئی فصاد کرے گا

جو اس میں بھی چنگا نہ ہوا تو کوئی دن میں
جا خانۂ زنجیر کو آباد کرے گا

اس کی جو کمر ہووے تو کھینچے کوئی حاتمؔ
کیا اپنا سر آ کر یہاں بہزاد کرے گا