دونوں کا لا شعور ہے اتنا ملا ہوا
اس نے جو پی شراب تو مجھ کو نشہ ہوا
کس کی ہے دھول میرے تصوف کے پاؤں میں
کیا ہے یہ خانقاہ کے در پر پڑا ہوا
پیدا کیا دوبارہ مجھے اس کے جسم نے
میں جو برائے وصل گیا تھا مرا ہوا
دنیا کی ہر نماز کا مجھ کو ملا ثواب
مسجد کا اندرون ہے مجھ پر کھلا ہوا
یہ بھی مرے چراغ خموشی کا فیض ہے
چاروں طرف ہے شور ہوا کا مچا ہوا
اس نے پڑھی نماز تو میں نے شراب پی
دونوں کو لطف یہ ہے برابر نشہ ہوا
دیکھا نہیں کبھی نہ ملاقات ہی ہوئی
احساسؔ جی کا نام ہے لیکن سنا ہوا
غزل
دونوں کا لا شعور ہے اتنا ملا ہوا
فرحت احساس

