EN हिंदी
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی | شیح شیری
do din se kuchh bani thi so phir shab bigaD gai

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

میر تقی میر

;

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

واشد کچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دل کے تئیں
اقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی

گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیا
شاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی

خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیئے
صورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی

باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم
کاہے کو میرؔ کوئی دبے جب بگڑ گئی