ڈنر پہ آج کوئی اس سا آشنا بھی نہ تھا
وہ اس سے پہلے اگرچہ کہیں ملا بھی نہ تھا
اسی نے آج بتایا مجھے کہ کون ہوں میں
وہ جس کو آج سے پہلے میں جانتا بھی نہ تھا
کہاں ہوں کیوں ہوں ہر اک سانس پوچھتی ہے مجھے
کبھی میں اپنے سوالوں میں یوں گھرا بھی نہ تھا
کسی کی میز پہ ہی رہ گئی نہ جانے کیوں
وہ ڈائری کہ ابھی جس پہ کچھ لکھا بھی نہ تھا
تمام شہر صداؤں کے اک بھنور میں ہے
مرا مکان کبھی ایسے ڈولتا بھی نہ تھا
مجھے نہ جانے وہ سینے سے کیوں لگائے پھرا
میں کوئی گل بھی نہ تھا موجۂ ہوا بھی نہ تھا
وہ جس کی دھن میں ہم اتوار کو بھی گھر نہ رہے
ملا تو اپنی طرف شامؔ دیکھتا بھی نہ تھا

غزل
ڈنر پہ آج کوئی اس سا آشنا بھی نہ تھا
محمود شام