دن نے اتنا جو مریضانہ بنا رکھا ہے
رات کو ہم نے شفا خانہ بنا رکھا ہے
انتقام ایسا لیا ہے مری تنہائی نے
شہر کا شہر بیابانہ بنا رکھا ہے
خاک کا خانہ غریبانہ بدن ہے کہ جسے
رونق عشق نے شاہانہ بنا رکھا ہے
ہم کو معلوم ہے خوب اپنی حقیقت سو اسے
اسی عنوان کا افسانہ بنا رکھا ہے
مبتذل ہونے کا آپ اپنا مزہ ہے ورنہ
ہم نے بھی خود کو حکیمانہ بنا رکھا ہے
آدمی ہو کہ خدا سب کا برابر ہے وزن
عشق نے ایک ہی پیمانہ بنا رکھا ہے
چاک کر کر کے ہوئے تنگ تو دیوانوں نے
چاک کو اب کے گریبانہ بنا رکھا ہے
فرحت اللہؔ ہے وہ عقل کا پتلا جس نے
فرحتؔ احساس کو دیوانہ بنا رکھا ہے
غزل
دن نے اتنا جو مریضانہ بنا رکھا ہے
فرحت احساس

