دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں
وفا کا ذکر ہی کیسا جفا بھی یاد نہیں
معاملات محبت تو یاد کیا رہتے
وہ رسم و راہ کا اب سلسلہ بھی یاد نہیں
نکل پڑے ہیں سفینے ہواؤں کے رخ پر
خدا بھی یاد نہیں ناخدا بھی یاد نہیں
وہ کائنات محبت ہوئی نظر اوجھل
فسوں طرازیٔ رسم وفا بھی یاد نہیں
طریق مہر و وفا کے چلن تو دور رہے
کسی کو وعدۂ مہر و وفا بھی یاد نہیں
جواب میں جو سنا تھا وہ یاد کیا ہوتا
ہمیں تو اپنا سنایا ہوا بھی یاد نہیں
یہ واقعہ ہے کہ دیکھا تھا خواب منزل کا
یہ حادثہ ہے کہ اب راستہ بھی یاد نہیں
کبھی سلوک کسی نے کیا تو تھا لیکن
روا بھی یاد نہیں ناروا بھی یاد نہیں
ہم ان کو یاد دلائیں تو کیا رشیؔ جن کو
نیاز مندئ اہل وفا بھی یاد نہیں
غزل
دلوں کو لوٹنے والی ادا بھی یاد نہیں
رشی پٹیالوی