EN हिंदी
دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا | شیح شیری
dildar ki kashish ne aincha hai man hamara

غزل

دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا

سراج اورنگ آبادی

;

دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا
ہے خاک اس قدم کی شاید وطن ہمارا

اے دوستان جانی دل سیں کرو توجہ
تا جان پاس اپنے پہنچے بدن ہمارا

گر زندگی ہے باقی پھر تم سیں آ ملیں گے
دیدار آخری ہے جو ہے مرن ہمارا

دریائے مدعا کا لائے ہیں تھاہ جب سیں
ہر بوند اشک کا ہے در عدن ہمارا

درکار نہیں ہے پہریں بر میں قبائے زینت
یہ بس ہے خاکساری خاکی برن ہمارا

سب چھوڑ خانما کوں ہیں اس کی جستجو میں
ہے دشت اور بیاباں باغ و چمن ہمارا

مانند کوہ کن ہے بے کل سراجؔ کا دل
شاید کہ مان لیوے شیریں سخن ہمارا