EN हिंदी
دل اس سے لگا جس سے روٹھا بھی نہیں جاتا | شیح شیری
dil us se laga jis se ruTha bhi nahin jata

غزل

دل اس سے لگا جس سے روٹھا بھی نہیں جاتا

شہرت بخاری

;

دل اس سے لگا جس سے روٹھا بھی نہیں جاتا
کام اس سے پڑا جس کو چھوڑا بھی نہیں جاتا

دن رات تڑپتا ہوں اب جس کی جدائی میں
وہ سامنے آئے تو دیکھا بھی نہیں جاتا

منزل پہ پہنچنے کی امید بندھے کیسے
پاؤں بھی نہیں اٹھتے رستہ بھی نہیں جاتا

یہ کون سی بستی ہے یہ کون سا موسم ہے
سوچا بھی نہیں جاتا بولا بھی نہیں جاتا

انگاروں کی منزل میں زنجیر بپا ہیں ہم
ٹھہرا بھی نہیں جاتا بھاگا بھی نہیں جاتا

اس مرتبہ چھائی ہے کچھ ایسی گھٹا جس سے
کھلنا بھی نہیں ہوتا برسا بھی نہیں جاتا

ہر حال میں اتنے بھی بے بس نہ ہوئے تھے ہم
دلدل بھی نہیں لیکن نکلا بھی نہیں جاتا

مر جاتے تھے غیروں کے کانٹا بھی جو چبھتا تھا
خود قتل ہوئے لیکن رویا بھی نہیں جاتا

کافر ہوں جو حسرت ہو جینے کی مگر شہرتؔ
اس حال میں یاروں کو چھوڑا بھی نہیں جاتا