EN हिंदी
دل مرا ساغر شکایت ہے | شیح شیری
dil mera saghar-e-shikayat hai

غزل

دل مرا ساغر شکایت ہے

سراج اورنگ آبادی

;

دل مرا ساغر شکایت ہے
زہر غم بس کہ بے نہایت ہے

وو بھویں مجھ پہ کیوں نہ ظلم کریں
چشم خوں ریز کی حمایت ہے

دیو مجھے لاکھ دام کی جاگیر
زلف کھولو بڑی رعایت ہے

نقد دیدار بو الہوس کوں نہ دیو
اس میں سرکار کی کفایت ہے

بے گناہوں کوں قتل کرنے پر
مفتیٔ ناز کی روایت ہے

ہیکل لخت دل میں حرف وفا
مرشد عشق کی عنایت ہے

شمع رو سن بیان سوز سراجؔ
کہ عجب درد کی حکایت ہے