EN हिंदी
دل کو ہوا ہے عشق محبت کے داغ سے | شیح شیری
dil ko hua hai ishq mohabbat ke dagh se

غزل

دل کو ہوا ہے عشق محبت کے داغ سے

ناطقؔ لکھنوی

;

دل کو ہوا ہے عشق محبت کے داغ سے
پروانہ لو لگائے ہوئے ہیں چراغ سے

دیدار رخ نصیب ہوا دل کے داغ سے
سورج کو میں نے ڈھونڈھ لیا اس چراغ سے

اک داغ دل نے مجھ کو دیے بے شمار داغ
پیدا ہوئے ہزار چراغ اس چراغ سے

افسردہ یوں ہوا دل سوزاں کو اف نہ کی
ایسا بجھا دھواں بھی نہ نکلا چراغ سے

ناطقؔ دلوں میں نور ہے اس شمع حسن کا
روشن ہے سب کے گھر کا چراغ اس چراغ سے