EN हिंदी
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے | شیح شیری
dil ki taklif kam nahin karte

غزل

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

جون ایلیا

;

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

جان جاں تجھ کو اب تری خاطر
یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے

دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم
سر تسلیم خم نہیں کرتے

وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے
ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے