دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا
یہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا
کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم
کہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا
نظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخ
یہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا
نگاہ فیض سے محروم برتری معلوم
ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا
ہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسی
یہ سیل نور ستم ہے شراب ہو نہ سکا
یہ مے چھلک کے بھی اس حسن کو پہنچ نہ سکی
یہ پھول گھل کے بھی اس کا شباب ہو نہ سکا
کسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کو
میں ناتواں تو حریف خطاب ہو نہ سکا
ہوں تیرے وصل سے مایوس اس قدر گویا
کبھی جہاں میں کوئی کامیاب ہو نہ سکا
وہ پوچھتے ہیں ترے دل کی آرزو کیا ہے
یہ خواب ہائے کبھی میرا خواب ہو نہ سکا
تلاش معنیٔ ہستی میں فلسفہ نہ خرد
یہ راز آج تلک بے حجاب ہو نہ سکا
شراب عشق میں ایسی کشش سی تھی اخترؔ
کہ لاکھ ضبط کیا اجتناب ہو نہ سکا
غزل
دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا
اختر شیرانی