EN हिंदी
دل ناداں مرا ہے بے تقصیر | شیح شیری
dil-e-nadan mera hai be-taqsir

غزل

دل ناداں مرا ہے بے تقصیر

سراج اورنگ آبادی

;

دل ناداں مرا ہے بے تقصیر
ذبح کرتے ہو اوس کوں بے تکبیر

نقش دیوار صحن گلشن ہے
جس نے دیکھا ہے یار کی تصویر

عاشقوں کوں نہیں ہے رسوائی
مصحف عشق کی ہے یہ تفسیر

گردش چشم یار بے جا نہیں
دل کے لینے کی ہے اسے تدبیر

بو الہوس کب تلک رہے آزاد
کھول صیاد زلف کی زنجیر

جانتی ہے وو زلف عقدہ کشا
میرے آشفتہ خواب کی تعبیر

شب ہجراں میں اے سراجؔ مجھے
اشک ہے شمع اور پلک گلگیر