دل ناداں مرا ہے بے تقصیر
ذبح کرتے ہو اوس کوں بے تکبیر
نقش دیوار صحن گلشن ہے
جس نے دیکھا ہے یار کی تصویر
عاشقوں کوں نہیں ہے رسوائی
مصحف عشق کی ہے یہ تفسیر
گردش چشم یار بے جا نہیں
دل کے لینے کی ہے اسے تدبیر
بو الہوس کب تلک رہے آزاد
کھول صیاد زلف کی زنجیر
جانتی ہے وو زلف عقدہ کشا
میرے آشفتہ خواب کی تعبیر
شب ہجراں میں اے سراجؔ مجھے
اشک ہے شمع اور پلک گلگیر
غزل
دل ناداں مرا ہے بے تقصیر
سراج اورنگ آبادی

