EN हिंदी
دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے | شیح شیری
dikhata kya hai ye TuTi hui kaman mujhe

غزل

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے

اعجاز عبید

;

دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھے
ترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھے

ہوا نے ریت کی صورت زمیں پہ لکھ دی ہے
دکھائی دیتی ہے پتھر کی داستان مجھے

اک آسماں نے زمیں پر گرا دیا لیکن
زمیں نے پھر سے بنا ڈالا آسمان مجھے

میں اس ہوا کا نہیں پانیوں کا قیدی ہوں
نہ جانے کیوں لئے پھرتا ہے بادبان مجھے

زمیں سے صرف جزیرہ دکھائی دیتا ہے
کوئی نہ جان سکا آج تک چٹان مجھے

نہ جانے تیر کی مانند کیسے چبھنے لگا
وہ شخص لگتا تھا ٹوٹی ہوئی کمان مجھے