ڈھونڈ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا
اب تو سورج سے اندھیرا نہیں جانے والا
ہر کسی کو نہ دکھا اپنے غموں کے زیور
کانچ کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے والا
میرے احباب مرے حال پہ روتے ہیں مگر
کاش ہوتا کوئی گرتے کو اٹھانے والا
تیرے چہرے پہ جو رونق ہے مرے عشق سے ہے
صرف غازہ سے نہیں نور یہ آنے والا
رہنماؤں کی ہر اک بات بجا، پر کیا ہے
اپنے ماضی سے کوئی آنکھ ملانے والا
ان اجالوں کے طلب گار تو سب ہیں لیکن
ہے کوئی خون چراغوں کو پلانے والا
تیری تصویر کبھی تیرا بدل ہو نہ سکی
ایک کاغذ میں نہیں حسن سمانے والا
اپنے دامن میں دعاؤں کے خزانے بھر لو
پھر یہ درویش نہیں لوٹ کے آنے والا

غزل
ڈھونڈ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا
مصور فیروزپوری