EN हिंदी
دیکھو ابھی لہو کی اک دھار چل رہی ہے | شیح شیری
dekho abhi lahu ki ek dhaar chal rahi hai

غزل

دیکھو ابھی لہو کی اک دھار چل رہی ہے

فرحت احساس

;

دیکھو ابھی لہو کی اک دھار چل رہی ہے
بازو کٹے ہیں پھر بھی تلوار چل رہی ہے

تہذیب نے یہ کیسا مخبر لگا رکھا ہے
ہر لمحہ ساتھ گھر کی دیوار چل رہی ہے

کچھ تو مری اداسی ہنگامہ بھی کیا کر
تو آج ساتھ میرے بازار چل رہی ہے

تم ساتھ ہو تو کیسا چپکا پڑا ہے دریا
اور یہ ہوا بھی کیسی ہموار چل رہی ہے

کر لو عیادت اس کی تم بھی تو فرحتؔ احساس
دنیا بہت دنوں سے بیمار چل رہی ہے