EN हिंदी
دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف | شیح شیری
dekha hai jis ne yar ke ruKHsar ki taraf

غزل

دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف

سراج اورنگ آبادی

;

دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف
ہرگز نہ جاوے سیر کوں گل زار کی طرف

آئینہ دل کی چشم میں نور جمال دوست
روشن ہوا ہے ہر در و دیوار کی طرف

منظور ہے سلامتیٔ خوں اگر تجھے
مت دیکھ اس کی نرگس بیمار کی طرف

وہاں نہیں بغیر جوہر شمشیر خوں بہا
زاہد نہ جا وو ظالم خونخوار کی طرف

ہے دل کوں عزم چوک امید وصال پر
دیوانہ کا خیال ہے بازار کی طرف

کیا پوچھتے ہو تم کہ ترا دل کدھر گیا
دل کا مکاں کہاں؟ یہی دل دار کی طرف

پروانہ کوں نہیں ہے مگر خوف جاں سراجؔ
ناحق چلا ہے شعلۂ دیدار کی طرف