EN हिंदी
چھریاں چلیں شب دل و جگر پر | شیح شیری
chhuriyan chalin shab dil o jigar par

غزل

چھریاں چلیں شب دل و جگر پر

مصحفی غلام ہمدانی

;

چھریاں چلیں شب دل و جگر پر
لعنت ہے اس آہ بے اثر پر

بالوں نے ترے بلا دکھا دی
جب کھل کے وہ آ رہی کمر پر

نامے کو مرے چھپا رکھے گا
تھا یہ تو گماں نہ نامہ بر پر

پھرتے ہیں جھروکوں کے تلے شاہ
اس کو میں امید یک نظر پر

کیا جاگا ہے یہ بھی ہجر کی شب
زردی سی ہے کیوں رخ قمر پر

پھر غیرت عشق نے بٹھائے
درباں شدید اس کے در پر

رہتی ہیں بہ وقت گریہ اکثر
دو انگلیاں اپنی چشم تر پر

ہے عشق سخن کا مصحفیؔ کو
مائل نہیں اتنا سیم و زر پر