چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیا
یہ فرق بھی ترے انکار سے نکل آیا
پلٹ پڑا جو میں سر پھوڑ کر محبت میں
تو راستہ اسی دیوار سے نکل آیا
مجھے خریدنا کچھ بھی نہ تھا اسی خاطر
میں خود کو بیچ کے بازار سے نکل آیا
ابھی تو اپنے کھنڈر ہی کی سیر تھی باقی
یہ تو کہاں مرے آثار سے نکل آیا
بہت سے اور طلسمات منتظر ہیں مرے
اگر کبھی ترے اسرار سے نکل آیا
مجھے بھی دے رہے تھے خلعت وفا لیکن
نظر بچا کے میں دربار سے نکل آیا
سرے سے جو کہیں موجود ہی نہ تھا آخر
وہ نقص بھی مرے کردار سے نکل آیا
نئی فضا نئے آفاق ہیں اسی کے لیے
جو آج اڑتی ہوئی ڈار سے نکل آیا
اسی کو ایک غنیمت قرار دوں گا ظفرؔ
جو ایک شعر بھی طومار سے نکل آیا
غزل
چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیا
ظفر اقبال