چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں
زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کل
وہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں
حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگا
اب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں
زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کی
کچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں
ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں
جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہے
یہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں
دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنے
خراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں
غزل
چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
فراق گورکھپوری