EN हिंदी
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے | شیح شیری
chhati jala kare hai soz-e-darun bala hai

غزل

چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے

میر تقی میر

;

چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

میں اور تو ہیں دونوں مجبور طور اپنے
پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے

روئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا رب
سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے

کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں
دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے

حسن ان بھی معینوں کا تھا آپ ہی صورتوں میں
اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے

شادی سے غم جہاں میں وہ چند ہم نے پایا
ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے

ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن
ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے

ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ
ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے

نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں
جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہہ سے آشنا ہے

مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر
جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے

تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر
جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے

ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن
جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے

پھرتے ہو میرؔ صاحب سب سے جدے جدے تم
شاید کہیں تمہارا دل ان دنوں لگا ہے