EN हिंदी
بجھ گئے سارے چراغ جسم و جاں تب دل جلا | شیح شیری
bujh gae sare charagh-e-jism-o-jaan tab dil jala

غزل

بجھ گئے سارے چراغ جسم و جاں تب دل جلا

فرحت احساس

;

بجھ گئے سارے چراغ جسم و جاں تب دل جلا
خلق کی خاطر ہمارا مرشد کامل جلا

کچھ بھی دریا نے مدد اپنے پڑوسی کی نہ کی
دور تک پانی ہی پانی تھا مگر ساحل جلا

روشنی میں ایک الگ سی روشنی شامل ہوئی
آج لگتا ہے کہ پھر کوئی سر محفل جلا

دیکھتے ہی آگ پتھر ہو گیا کاغذ کا جسم
وہ جسے آسان جلنا تھا بہت مشکل جلا

اب رخ لیلیٰ نہیں ہوگا کبھی پردہ نشیں
شہر کے آتش کدے میں پردۂ محمل جلا

شہر میں بھڑکی ہوئی تھی وصل کی آگ اور ادھر
فرحتؔ احساس آپ اپنے ہجر میں تل تل جلا