EN हिंदी
بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ | شیح شیری
be tere jaan na thi jaan meri jaan ke bich

غزل

بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ

شیخ ظہور الدین حاتم

;

بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ
آن کر پھر کے جلایا تو مجھے آن کے بیچ

ایک دن ہاتھ لگایا تھا ترے دامن کو
اب تلک سر ہے خجالت سے گریبان کے بیچ

تو نے دیکھا نہ کبھی پیار کی نظروں سے مجھے
جی نکل جائے گا میرا اسی ارمان کے بیچ

آج عاشق کے تئیں کیوں نہ کہے تو در در
واسطہ یہ ہے کہ موتی ہے ترے کان کے بیچ

ہوئی زباں لال ترے ہاتھ سے کھا کے بیڑا
کیا فسوں پڑھ کے کھلایا تھا مجھے پان کے بیچ

کچھ تو مجنوں کو حلاوت ہے وہاں دیوانو
چھوڑ شہروں کو جو پھرتا ہے بیابان کے بیچ

دیکھ حاتمؔ کو بھلا تو نے برا کیوں مانا
کیا خلل اس نے کیا آ کے تری شان کے بیچ