EN हिंदी
بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے | شیح شیری
bas hum hain shab aur karahna hai

غزل

بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

;

بس ہم ہیں شب اور کراہنا ہے
یہ اور طرح کا چاہنا ہے

ہے وعدۂ وصل آج مجھ کو
اسباب طرب بساہنا ہے

ہیں ناوک غمزہ گرچہ کاری
میرا ہی جگر سراہنا ہے

دنیا ہے سرائے فانی اس میں
جو آیا ہے یاں سو پاہنا ہے

چتون میں کہے ہے یوں وہ مغرور
تجھ سے مجھے کیا نباہنا ہے

اے مصحفیؔ دل رہا ہے پیچھے
اس کو بھی ذرا نباہنا ہے