EN हिंदी
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے | شیح شیری
band-e-qaba ko KHuban jis waqt wa karenge

غزل

بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے

میر تقی میر

;

بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے

رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم
یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے

ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں
جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے

درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت
گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے

آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی
ترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے

کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ
اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے

عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت
تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے

دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے
جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے

لائی تری گلی تک آوارگی ہماری
ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے

احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں
اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے