EN हिंदी
بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار | شیح شیری
bala se hain jo ye pesh-e-nazar dar-o-diwar

غزل

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار

مرزا غالب

;

بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
نگاہ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار

وفور اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگ
کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار

نہیں ہے سایہ کہ سن کر نوید مقدم یار
گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار

ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار

جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
کہ ہیں دکان متاع نظر در و دیوار

ہجوم گریہ کا سامان کب کیا میں نے
کہ گر پڑے نہ مرے پانو پر در و دیوار

وہ آ رہا مرے ہمسائے میں تو سائے سے
ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار

نظر میں کھٹکے ہے بن تیرے گھر کی آبادی
ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار

نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار

نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
حریف راز محبت مگر در و دیوار