EN हिंदी
بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے | شیح شیری
baiThe baiThe jo hum ai yar hanse aur roe

غزل

بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے

مصحفی غلام ہمدانی

;

بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے
آ گیا یاد تو اک بار ہنسے اور روئے

شعر تر پڑھنے سے یاروں میں ہمیں کیا حاصل
مگر اتنا ہے کہ دو چار ہنسے اور روئے

شادی و غم کی جو اٹھ جائے جہاں سے رہ و رسم
پھر تو کوئی بھی نہ زنہار ہنسے اور روئے

ناتوانی نے کیا اس کو تو نقش قالیں
کیا تری چشم کا بیمار ہنسے اور روئے

مصحفیؔ رات میں افسانۂ دل کہتا تھا
سن کے ہمسائے کئی بار ہنسے اور روئے