EN हिंदी
بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں | شیح شیری
bahut zamin bahut aasman milenge tumhein

غزل

بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں

فرحت احساس

;

بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں
پہ ہم سے خاک کے پتلے کہاں ملیں گے تمہیں

خرید لو ابھی بازار میں نئے ہیں ہم
کہ بعد میں تو بہت ہی گراں ملیں گے تمہیں

اب ابتدائےسفر ہے تو جو ہے کہہ سن لو
ہم اس کے بعد نہ جانے کہاں ملیں گے تمہیں

جو راستے میں ملے کوئی مسجد ویراں
تو ہم وہیں کہیں وقت اذاں ملیں گے تمہیں

ہم انتہا میں ملیں گے گر ابتدا میں نہیں
نہیں وہاں بھی تو پھر درمیاں ملیں گے تمہیں

ٹھہر ہی جائیں گے آخر کہیں جناب احساسؔ
پر اپنے شعر میں یوں ہی رواں ملیں گے تمہیں