EN हिंदी
بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے | شیح شیری
bahut mumkin tha hum do jism aur ek jaan ho jate

غزل

بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے

فرحت احساس

;

بہت ممکن تھا ہم دو جسم اور اک جان ہو جاتے
مگر دو جسم صرف اک جان سے ہلکان ہو جاتے

تم آتے تو دلوں سے کھیلنے کا شوق تھا تم کو
تو میرے جسم و جاں اس کھیل کا میدان ہو جاتے

ہم اس کے وصل کے چکر میں غارت ہو گئے آخر
کیا ہوتا جو ہجر اچھے بھلے انسان ہو جاتے