بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں
بکھر کے خاک ہوئے اک ذرا سی لغزش میں
پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں
وہ ہاتھ کیا ہوئے تعمیر رائیگاں نکلی
مکان گر گئے موسم کی پہلی بارش میں
جو قتل و خون کی آندھی چلی تو تھمتی کیا
سبھی شریک تھے بستی کے لوگ سازش میں
کتاب کھولی تو لفظوں کے ساتھ بہنے لگے
عجب طلسم تھا اس شخص کی نگارش میں
غزل
بہت فساد چھپا تھا لہو کی گردش میں
خلیل تنویر