EN हिंदी
بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے | شیح شیری
badan aur ruh mein jhagDa paDa hai

غزل

بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے

فرحت احساس

;

بدن اور روح میں جھگڑا پڑا ہے
کہ حصہ عشق میں کس کا بڑا ہے

ہجوم گریہ سے ہوں در بہ در میں
کہ گھر میں سر تلک پانی کھڑا ہے

بلاتی ہے مجھے دیوار دنیا
جہاں ہر جسم اینٹوں سا جڑا ہے

جھنجھوڑا ہے ابھی کس زلزلے نے
زمیں سے زندگی سا کیا جھڑا ہے

فقط آنکھیں ہی آنکھیں رہ گئی ہیں
کہ سارا شہر مٹی میں گڑا ہے

تمہارا عکس ہے یا عکس دنیا
تذبذب سا کچھ آنکھوں میں پڑا ہے

میں دریا جاں بچاتا پھر رہا ہوں
کوئی ساحل مرے پیچھے پڑا ہے

ذرا سی شرم بھی کر فرحت احساسؔ
بدن تیرا عجب چکنا گھڑا ہے