EN हिंदी
بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو | شیح شیری
baat ko meri alag ho ke na sharmao suno

غزل

بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو

مصحفی غلام ہمدانی

;

بات کو میری الگ ہو کے نہ شرماؤ سنو
کچھ کہا چاہوں ہوں میں تم سے ادھر آؤ سنو

میں تو جانے کا نہیں رو بہ رو اس کے یارو
کچھ وہ گر تم سے کہے ہے تو تمہیں جاؤ سنو

چھیڑنے کو مرے گر آپ کا جی چاہے ہے
بے ادب ہوں میں مرے حق میں جو فرماؤ سنو

بات بھی مانو کسی کی کوئی یہ بھی ضد ہے
اپنے عاشق کے تئیں اتنا نہ ترساؤ سنو

گل صنوبر کا اگر قصہ ہے تم پاس میاں
پڑھنے والا بھی تو موجود ہوں میں لاؤ سنو

اے دل و دیدہ مآل اس کا برا ہی سمجھو
دیکھ کر اس کے تئیں اتنا نہ للچاؤ سنو

مصحفیؔ بات تو کہنے دو ذرا قاصد کو
پہلے ہی حرف میں تم اتنا نہ گھبراؤ سنو