بہ رنگ سبزہ انہی ساحلوں پہ جم جائیں
رواں ہوئے تھے جہاں سے وہیں پہ تھم جائیں
ہم اس کے پاس سے آئیں وجود سے بھر کر
پہ شرط ہے کہ وہاں صورت عدم جائیں
وہ بے پناہ خموشی طلب کرے اک بار
تو بار بار نیا لفظ بن کے ہم جائیں
معاملہ تو یہ فوری عمل کا ہے پھر بھی
مری سنیں تو ابھی تھوڑی دیر تھم جائیں
فراخ دل ہے بہت وہ مگر میاں احساسؔ
زیادہ ملتا ہے اتنا ہی جتنا کم جائیں
غزل
بہ رنگ سبزہ انہی ساحلوں پہ جم جائیں
فرحت احساس

