EN हिंदी
ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے | شیح شیری
az-bas-ki ji hai tujh bin bezar zindagi se

غزل

ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے

مصحفی غلام ہمدانی

;

ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے
بہتر ہے مجھ کو مرنا اے یار زندگی سے

مر جاؤں میں تو رونا میرا تمام ہووے
شاکی ہیں میری چشم خوں بار زندگی سے

اس شاہد نہاں کا کشتہ ہوں میں کہ جس نے
کھینچی ہے درمیاں میں دیوار زندگی سے

مرتے تو چھوٹ جاتے رنج و محن سے یاں کے
مانند خضر ہم ہیں ناچار زندگی سے

یاں کی اذیتوں سے ازبسکہ آگہی تھی
کرتے تھے ہم عدم میں انکار زندگی سے

جیتے اگر نہ ہم تو کیوں ذلتیں اٹھاتے
کھائی ہے دل پہ ہم نے تلوار زندگی سے

سچ ہے اٹھائے کب تک ہر اک کی بے ادائی
آتی ہے مصحفیؔ کو اب عار زندگی سے