انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا
کب وقت کا پنچھی ٹھیرا کب سایہ ہاتھ میں آیا
اک نور کی چادر سمٹی بے جان فضا دھندلائی
گھر آئے گھنیرے بادل یا چاند گہن میں آیا
آنکھوں سے نشیلی شب کی دھوتی رہی شبنم کاجل
ہر سمت سیاہی پھیلی ہر سمت اندھیرا چھایا
جو بات لبوں پر آئی وہ بات بنی افسانہ
اک گیت کو اس دنیا نے کتنی ہی دھنوں میں گایا
دل درد سے بھر بھر آیا پلکوں پہ نہ چمکے آنسو
آنکھوں نے سمندر بھر کے قطرے کے لیے ترسایا
ایسے بھی زمانے گزرے دن سویا راتیں جاگیں
احساس کا رنگیں آنچل سناٹوں میں لہرایا
خوشیوں کو تو چھوڑا ہم نے اک کھیل سمجھ کر انجمؔ
جس غم کو رگ جاں سمجھا اس غم نے ہمیں ٹھکرایا
غزل
انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا
انجم انصاری