EN हिंदी
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب | شیح شیری
andoh se hui na rihai tamam shab

غزل

اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب

میر تقی میر

;

اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں
یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب

چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک
کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب

بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی
تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب

بیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھرا
ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب

سناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاں
بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب

تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے
دیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب