اندھیرے سے زیادہ روشنی تکلیف دیتی ہے
زمانے کو مری زندہ دلی تکلیف دیتی ہے
بہت اچھا تھا جب نا آشنا تھا حسن دنیا سے
مجھے اب ہوشمندی آگہی تکلیف دیتی ہے
وہ اکثر چھیڑ دیتے ہیں مرے دیرینہ زخموں کو
نہ جانے کیوں انہیں میری خوشی تکلیف دیتی ہے
جو اپنے سینوں میں دل کی بہ جائے سنگ رکھتے ہیں
انہیں ہم اہل دل کی سر خوشی تکلیف دیتی ہے
ہو تکمیل ہوس جس دوستی کا منتہا اے دل
مجھے وہ رسم و راہ عاشقی تکلیف دیتی ہے
خدا کے فضل سے مجھ کو سبھی کچھ مل گیا لیکن
مجھے اس بزم میں ان کی کمی تکلیف دیتی ہے
سحرؔ وابستہ میری شاعری ہے ان کی یادوں سے
کبھی پر کیف ہوتی ہے کبھی تکلیف دیتی ہے

غزل
اندھیرے سے زیادہ روشنی تکلیف دیتی ہے
سحر محمود