EN हिंदी
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے | شیح شیری
ajab haalat hamari ho gai hai

غزل

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے

جون ایلیا

;

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے

سخن میرا اداسی ہے سر شام
جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے

بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر
زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے

وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا
مری آواز بھاری ہو گئی ہے

دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی
بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے

یقیں معذور ہے اب اور گماں بھی
بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے

وہ اک باد شمالی رنگ جو تھی
شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے

مرے پاس آ کے خنجر بھونک دے تو
بہت نیزہ گزاری ہو گئی ہے